Skip to Content

جنسی زیادتی سے کیا مراد ہے؟

جنسی زیادتی کو سمجھنے سے ہمیں اس سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

حالیہ جنسی حملے کے بعد آپ کے حقوق اور راستے

1800RESPECT
21 SEP 2014

جنسی زیادتی کا مطلب ہے کوئی بھی ایسا جنسی یا جنسیت زدہ فعل جس سے کوئی شخص ناگواری ڈر یا خوف محسوس کرے۔ کوئی ایسا رویہ جس کے لیے ایک شخص نے آمادگی نہ ظاہر کی ہو یا پھر اس نے اس کا انتخاب نہ کیا ہو۔

جنسی زیادتی ایک شخص کے اعتماد کو دھوکہ دینا اور اس حق کو سلب کرنا ہے جو کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں رکھتا ہے۔ جنسی زیادتی حق اور طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔

جنسی زیادتی بالغ افراد اور بچوں، عورتوں اور مردوں، اور ہر پس منظر کے لوگوں کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

جنسی زیادتی کو جنسی بدسلوکی یا جنسی تشدد بھی کہا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی کو بیان کرنے والے الفاظ جیسا کہ زنا بالجبر (ریپ) اور جنسی بدسلوکی کے ایک عمومی معنی ہوتے ہیں جو روزمرہ گفتگو کے دوران استعمال کیے جاتے ہیں اور ایک مخصوص معنی ہوتے ہیں جو خاص فوجداری جنسی جرائم کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس ویب سائیٹ پر ان الفاظ کا استعمال عمومی معنوں میں اور صرف عمومی نوعیت کی معلومات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کسی جنسی جرم  کا ارتکاب کیا گیا ہے اور آپ اس کے متعلق شکایت کرنا چاہتے ہیں تو ہو سکتا ہے آپ مزید صلاح مشورہ کرنا چاہیں۔ آپ آپ کے علاقےمیں جنسی زیادتی سے متعلق سروس [انگریزی میں]، پولیس، اپنے ڈاکٹر یا کسی نجی وکیل سے رابطہ کر کے ایسا کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وقت اہمیت کا حامل ہو اور یہ سروسز آپ کے حقوق اور آپ کو حاصل مواقع کے متعلق معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

جنسی زیادتی کی متعدد قسمیں ہیں

جب ہم سمجھتے ہوں کہ جنسی زیادتی سے کیا مراد ہے تو کسی دوست، رشتے دار یا کسی کلائینٹ کے ہمیں یہ بتانے پر کہ اس  کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ہمیں قدم اٹھانے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس فہرست میں جنسی زیادتی کی کچھ مثالیں دی گئی ہیں:

  • جنسی طور پر ہراساں کرنا۔

  • بغیر مرضی کے چھونا یا بوسہ بازی

  • مجبور کر کے یا زبردستی جنسی سرگرمیوں یا جنس سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں کا ارتکاب بشمول ایسی سرگرمیوں کے جن میں تشدد اور تکلیف کا عنصر شامل ہو۔

  • اپنے جنسی اعضاء کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنا جیسا کہ 'فلیشنگ'

  • پیچھا کرنا

  • کسی دوسرے شخص کا آپ کو آپ کی اجازت کے بغیر اس وقت دیکھنا جب آپ بے لباس ہوں یا کسی جنسی سرگرمی میں مصروف ہوں۔

  • انٹرنیٹ پر بغیر رضامندی کے جنسی قسم کی تصاویر (یا ویڈیوز) پوسٹ کرنا۔

  • کسی دوسرے شخص کی طرف سے جنس نگاری (پورنوگرافی) کو دیکھنے یا اس میں حصہ لینے کے لیے مجبور کیا جانا یا زبردستی ایسا کروانا۔

  • جنس یا جنسی سرگرمیوں کے بارے میں کسی شخص کی قوت فیصلہ کو کم کرنے یا خراب کرنے کے لیے اس کے مشروب میں کوئی نشہ آور چیز ملانا یا منشیات اور الکوحل کا استعمال کرنا

  • کسی  سوئے ہوئے یا الکوحل اور/یا دوسری منشیات کے زیر اثر شخص کے ساتھ جنسی فعل کرنا۔

  • ایک مجبور کر دینے والے، خوفزدہ کرنے والے یا استحصالی رویے کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر فحش یا ذو معنی مذاق یا لطیفے یا جنسیات سے متعلق تصویریں دکھانا۔

  • زنا بالجبر/ریپ (کسی بھی جسمانی سوراخ میں کسی بھی چیز کا داخل کرنا)

  • کسی بچے یا بے بس شخص کو کسی بھی قسم کی جنسی سرگرمیوں میں شریک کرنے کے لیے 'تیار کرنا'

  • کسی بچے کے ساتھ کوئی بھی جنسی عمل۔

جنسی زیادتی اور جنسی جذبات کا اظہار ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ جنسی زیادتی سے مراد ایسا ان چاہا جنسی رویہ یا جنسی عمل ہے جس میں اختیار کا استعمال کرنے اور کسی کے انتخاب کے حق کو رد کرنے کے لیے خوف، جبر یا طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی یا بدسلوکی ایک ہی بار ہونے والا واقعہ بھی ہو سکتا ہے یا پھر تشدد کے ایک سلسلے کی کڑی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے مختلف قسم کے اثرات ہو سکتے ہیں جیسا کہ جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی اثرات کے۔

جنسی زیادتی کے متعلق حقائق

ذیل میں جنسی زیادتی کے متعلق کچھ اہم باتیں بتائی جا رہی ہیں جن کا جاننا ضروری ہے:

  • جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات کا ارتکاب مردوں کی طرف سے عورتوں اور بچوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔

  • مردوں کو بھی جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زیادہ تر دوسرے مردوں کی جانب سے۔ہوتی ہے

  • جنسی زیادتی کا سامنا کرنے والے اکثر افراد اس کا ارتکاب کرنے والے افراد سے واقف ہوتے ہیں یا ان کی حال ہی میں ان سے ملاقات ہوئی ہوتی ہے۔

  • جنسی زیادتی کی کچھ حرکات  فوجداری جرائم شمار ہوتی ہیں۔

  • پولیس کو اطلاع دینا ایک مشکل فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمارے عدالتی نظام کی مجبوریاں اور شواہد اکٹھا کرنے کا طریقہ انسان کو مشکل سے دوچار کر  سکتا ہے۔

  • جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے لوگ اپنے رد عمل کا کئی مختلف طریقوں سے اظہار کرتے ہیں بعض اوقات انتہائی جذباتی انداز میں اور بعض اوقات خاموش ہو کر۔ ایک شخص کی طرف سے دوسرے پر کیے گئے تشدد سے پہنچنے والے نقصان کے بارے میں جاننے سے ہمیں اس سے صحیح طور پر نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

  • جنسی زیادتی معاشرے میں پائے جانے والے طاقت کے عدم توازن کا ایک غلط  استعمال ہے۔ 

  • جنسی زیادتی کے اکثر واقعات کی اطلاع پولیس کو نہیں دی جاتی۔

جنسی زیادتی کے اثرات

ایک شخص کی طرف سے دوسرے پر کیا گیا تشدد جیسا کہ جنسی زیادتی کسی انسان کی زندگی میں پیش آنے والے انتہائی تکلیف دہ واقعات میں شامل ہے۔ اس کا شکار ہونے والے یا بچ جانے والے شخص پر یقین کر کے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر اس کی فوری ضرورت کو پورا کرنے سے اس کو مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ صحتیاب ہونے والے لوگوں کی مدد کو جاری رکھنا بھی اہم ہے؛ اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا جس طریقے سے وہ چاہیں اور جب وہ چاہیں کیا جائے۔

اگر آپ شکار ہونے/بچ جانے والوں کی مدد کرنے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ملاحظہ کریں صفحہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے کسی شخص کی مدد کیسے کی جائے۔